10 جنوری 2014 - 20:30
شام ميں دہشتگرد گرہوں کي شکست يقيني

شام ميں مغرب اور علاقے کي رجعت پسند حکومتوں کے حمايت يافتہ دہشتگرد گروہوں کي شکست يقيني ہوگئي ہے ۔

ابنا: شام ميں حکومت کے خلاف برسرپيکار دہشتگرد گروہوں کے درميان باہمي اختلافات اور جھڑپيں نيا رخ اختيار کرتي جارہي ہيں ۔ ہر مسلح گروپ اپنے عقيدے سے اختلاف رکھنے والے دوسرے گروہوں پر حملے اور زيادہ سے زيادہ علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے کي کوشش کر رہا ہے۔ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ دولت اسلاميہ في العراق والشام نامي دہشتگرد گروپ کے ديگر دہشتگرد گرہوں کے درميان جھڑپوں ميں شدت کے بعد ايک ہزار سے زيادہ دہشتگرد سرحد شہر آک چاقلہ کو عبور کرکے ترکي ميں داخل ہوگئے ہيں۔ ترکي، شام ميں دہشتگردوں کي حمايت کرنے والا ايک اہم ملک شمار ہوتا ہے جو اب تک دہشتگردوں کي تربيت اور انہيں مالي اور اسلحہ جاتي امداد ديگر دمشق حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے شام بھيجتا رہا ہے۔ايک اور اطلاع کے مطابق  نام نہاد فري سيرين آرمي نے شمال مغربي شام  کے شہر ادلب سے دولت الاسلاميہ في العراق و الشام نامي دہشتگرد گروپ کے ايک سو دہشتگردوں کو گرفتار کرليا ہے۔ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ شامي حکومت کے خلاف لڑنے والے مختلف دہشتگرد گروہوں کے درميان ہونے والي جھڑپوں ميں اب تک درجنون دہشتگرد مارے گئے ہيں۔ بعض خبروں ميں باہمي جھڑپوں ميں مارنے جانے والے دہشتگردوں کي تعداد پانچسو کے قريب بتائي گئي ہے۔دوسري جانب دولت اسلاميہ في العراق و الشام کے ايک دہشتگرد نے بارود سے بھری گاڑي کے ساتھ ادلب کے علاقے سراقب ميں نام نہاد فري سيرين آرمي کے  اڈے کو تباہ کرديا ہے جس ميں درجنون دہشتگرد ہلاک اور زخمي ہوئے ہيں۔ يہ خودکش حملہ ايسے وقت ميں کيا گيا ہے جب نام نہاد فري سيرين آرمي نے سراقب کا محاصرہ کر رکھا ہے اور دولت اسلاميہ في العراق والشام کے مرکزي ٹھکانے پر حملہ کرنے کي تياري کر رہي ہے۔  ادھر شامي ٹي وي نے خبر دي  ہے کہ شامي فوج کے ساتھ لڑائي ميں اب تک آٹھ سو کے قريب سعودي دہشتگرد مارے جا چکے ہيں۔ شامي ٹيلي ويژن کا کہنا ہے کہ شام ميں دنيا کے اکتيس ملکوں کے دہشتگرد مختلف گروہوں کے ساتھ شامي عوام اور حکومت پر حملے کر رہے ہيں اور ان سے زيادہ تر سعودي خاندان  کے وہابي عناصر ہيں۔  اقوام متحدہ ميں شام کے مستقل نمائندے بشار جعفري نے سعودي عرب پر اپنے ملک ميں دہشتگردي پھيلانے اور جرائم کے ارتکاب کا الزام لگايا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب يہ بات کسي سے پوشيدہ نہيں ہے کہ سعودي عرب دہشتگردوں کو شام بھيج رہا ہے اور جہاد کے بہانے اور جنسي جہاد جيسے دوسرے شرمناک  بہانوں کے ذريعے دہشتگردي اور فحاشي پھيلارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کےلئے سعودي عرب کي حمايت ثابت ہوچکي ہے اور سعودي وزير خارجہ دو بار قاہرہ ميں کھل کہہ چکے ہيں ان کا ملک شام مخالفين کو اسحلہ فراہم کر رہا ہے۔

.......

/169